Rights of Parents in Islam

Image
  Rights of Parents in Islam To be obedient to mother and father and to expose kindness to them has been enjoined along side the Oneness and Worship of Allah Almighty, inside the Holy Quran, in this type of manner that it seems that among human deeds, to obey mother and father and deal with them with appreciate and kindness is subsequent most effective to Worship Almighty Allah. The repute of mother and father in Islam could be very high. We as a Muslim ought to provide respect and like to our mother and father. Parents have to be dealt with well always that is a virtuous kind of act in the sight of Almighty Allah. Parents and youngsters in Islam are bonded collectively by way of mutual duties. Allah Almighty says within the Holy Quran: “…No mother have to be harmed via her infant and no father via his infant…” (Quran 2: 233). From the above-cited verse of Holy Quran, we are able to finish that Quran has made it obligatory for the child to deal with his parents with all grace and m...

بستیاں تب ویران ہو جاتی ہے جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔۔

 کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا ،

ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے پوچھا

”کس قدر ویران گاؤں ہے،.۔.؟

“طوطے نے کہا لگتا ہے یہاں کسی الو کا گزر ہوا ھے“

جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے ،

عین اس وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا،

اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہوکر بولا،

تم لوگ اس گاؤں میں مسافرلگتے ہو،

آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ،

میرے ساتھ کھانا کھاؤ،

اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی،

کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی،

تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ..

تم کہاں جا رہی ہو

طوطی پرشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچنے کی بات ہے ،

میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔۔۔،

الو یہ سن کر ہنسا..

اور کہا ..

یہ تم کیا کہ رہی ہوتم تو میری بیوی ہو.

اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی،

دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تواُلو نے طوطے کے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا

”ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں،

قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا“

اُلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے ،

،قاضی نے دلائل کی روشنی میں اُلو کےحق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی،

طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اُلو نے اسے آواز دی ،

”بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہواپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ“

طوطے نے حیرانی سے اُلو کی طرف دیکھا اور بولا ”اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو،

یہ اب میری بیوی کہاں ہے ،

عدالت نے تو اسےتمہاری بیوی قرار دے دیا ہے“

اُلو نے طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا،

نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے-

میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے.

بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے ....


Comments

Popular posts from this blog

آخرت کی تیاری

جمعہ مبارک کہنا بدعت ہے

Rights of Women in Islam