محنت کا پھل
- Get link
- X
- Other Apps
• *محنت_کا_پھل*
عامر ایک انتہائی غریب شخص تھا جس کے گھر میں مفلسی اور بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ایک مزدور شخص جو اپنی دیہاڑی سے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ بوڑھے والدین کی بیماری سے بھی لڑ رہا تھا۔ محنت عامر کی وہ خوبی تھی جو اسے مزدور ہونے کے باوجود کئی لوگوں سے منفرد کرتی تھی۔ اپنے کام کو احسن طریقے سے کرنا بھی بڑے لوگوں کی خوبی ہے اور یہ بڑے لوگ مزدو، ڈرائیور وغیرہ کوئی بھی ہو سکتے ہیں۔
عام طور پر مزدور طبقہ اپنا کام ایمانداری سے نہیں بلکہ مجبوری میں کرتا ہے۔ ٹھیکیدار یا مالک مکان کی موجودگی میں کام کرتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں آرام سے بیٹھ جانے یا وقت ضائع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عامر ان تمام لوگوں سے یوں مختلف تھا کہ وہ مالکان کی غیر موجودگی میں زیادہ کام اس سوچ کے تحت کرتا تھا کہ کوئی اس کے بارے یہ تصور بھی نہ کرے کہ وہ وقت ضائع کرتا ہے یا اپنے کام میں کوئی کوتاہی کرتا ہے۔
ایک مرتبہ عامر مزدوری کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ ایک نوجوان لڑکا اس کے پاس آ کر رکا۔ اس لڑکے نے عامر سے معاملات طے کیے اور اسے مزدوری کیلئے اپنے ساتھ لے گیا۔ اس لڑکے کا گھر تعمیر ہو رہا تھا جہاں پہلے ہی کچھ لوگ کام کر رہے تھے۔ عامر بھی ایک مستری کے ساتھ لگ کر اپنا کام کرنے لگا۔ دس دن یوں ہی گزر گئے اور یہ نوجوان لڑکا آتے جاتے عامر کو غور سے دیکھا کرتا۔ اس سے پہلے کبھی کسی مزدور کو اتنی محنت، ایمانداری اور احسن طریقے سے کام کرتے نہیں دیکھا تھا۔
حیران کن بات یہ تھی باقی مزدور پانچ بجے سے پہلے ہی کپڑے تبدیل کر کے آرام سے بیٹھ جاتے تھے لیکن عامر پانچ بجے کے بعد ہی کپڑے تبدیل کرتا تھا اور کچھ دیر دیواروں، فرش اور زیر تعمیر کام کا جائزہ لینے میں مصروف رہتا۔۔۔
کچھ دن کے بعد اس نوجوان مالک مکان نے ایک مستری کو اپنے پاس بلایا اور کہا" تم عامر کو مستری بنا سکتے ہو؟ یہ انتہا کا محنتی اور ایماندار شخص ہے۔ میں چاہتا ہوں یہ جلد سے جلد مستری بن جائے۔ آمدن بھی زیادہ ہو جائے گی اور درجہ بھی۔ اگر تم ایسا کر دو تو میں تمہیں بھی اضافی رقم دوں گا۔ میرے ہی گھر سے شروعات کرو اور عامر کے ہاتھ سے کام کرواؤ۔ کوئی اونچ نیچ ہو جائے یا کوئی دیوار ٹیڑھی ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے" ۔۔۔۔۔
مستری نے اسی وقت عامر کو بلوایا اور کہا" کل سے مستری والا سامان لے کر آنا۔ تمہیں اب مستری بنانا ہے" ۔ یہ بات سن کر عامر کے چہرے پر بلا کی خوشی اور سکون تھا۔ اگلے ہی دن عامر سارا سامان لے کر کام پر پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں اتنی صفائی اور مہارت تھی کہ مستری بھی حیران رہ گیا۔ جیسے آدھے سے زیادہ کام عامر کو پہلے سے ہی آتا ہو۔ اسی مکان کی تعمیر کے تجربات اور اپنی ایمانداری، محنت اور لگن کے باعث عامر مستری بن گیا۔ اس تعمیر کے اختتامی مراحل میں عامر نے بحیثیت مستری حصّہ لیا اور اجرت بھی استاد والی حاصل کی۔۔۔
اس کہانی میں محنت کا پھل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کا دوست ہے اور دوستی نبھانا خوب جانتا ہے۔ یہاں مالک مکان کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے عامر کیلئے کیسے راستے ہموار اور منزلیں آسان بنا دی۔ مالک مکان بھی کوئی اللہ والا شخص ہی تھا۔
*❣عمدہ اوراسلامی تحـــــــاریــــــر 🌙*
*┅┄┈•※ ͜✤✤͜※┅┄┈•۔*
*┊ ┊ ┊ ┊ ۔*
*┊ ┊ ┊ ☽۔*
*┊ ┊ ☆۔*
*☆ ☆۔*
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Good post
ReplyDelete