رزق کا تعلق تقدیر سے ہے محنت سے نہیں
- Get link
- X
- Other Apps
رزق کا تعلق محنت سے نہیں ہے۔
بعض لوگ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور مرتے دم تک عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کے پاس وافر مقدار میں رزق موجود ہوتا ہے ۔ اسے ساری زندگی محنت کے قریب سے بھی نہیں گزرنا پڑتا، جبکہ اس کے برعکس بعض افراد بچپن سے ہی محنت مزدوری شروع کردیتے ہیں اور مرتے دم تک محنت مزدوری ہی کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے پاس اتنا رزق ہوتا ہے کہ وہ بمشکل دو وقت کا کھانا ہی کھا سکیں۔ بعض اوقات تو ان کو فاقے بھی کرنے پڑتے ہیں۔
لہذا رزق کا تعلق محنت سے نہیں بلکہ آپ کی تقدیر سے ہے۔ جو آپ کی تقدیر میں پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے۔ تو انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرے، اللہ تعالی نے قرآن پاک کی سورۃ الم نشرح میں ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے، اگر زندگی میں تنگی اور پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے تو انسان کو چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اس کے دیے ہوئے رزق پر شکر ادا کرے،
اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائے
اللہ ہم سب کا خاتمہ بالایمان فرمائے
اللہ ہم سب کو زندگی شان والی اور موت ایمان والی نصیب فرمائے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment