Rights of Parents in Islam

Image
  Rights of Parents in Islam To be obedient to mother and father and to expose kindness to them has been enjoined along side the Oneness and Worship of Allah Almighty, inside the Holy Quran, in this type of manner that it seems that among human deeds, to obey mother and father and deal with them with appreciate and kindness is subsequent most effective to Worship Almighty Allah. The repute of mother and father in Islam could be very high. We as a Muslim ought to provide respect and like to our mother and father. Parents have to be dealt with well always that is a virtuous kind of act in the sight of Almighty Allah. Parents and youngsters in Islam are bonded collectively by way of mutual duties. Allah Almighty says within the Holy Quran: “…No mother have to be harmed via her infant and no father via his infant…” (Quran 2: 233). From the above-cited verse of Holy Quran, we are able to finish that Quran has made it obligatory for the child to deal with his parents with all grace and m...

بھیک مانگنے والوں کی بجائے ہمیں اپنا صدقہ و زکوٰۃ مستحق لوگوں کو دینی چاہئے

 *(بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!*)

بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی


Photo by Timur Weber from Pexels

"ہم نے دو نوعمر بچوں کو ل

ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیج

اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر بیچنے کے لئے بھیجا

شام کو بھکاری بچہ آٹھ س

اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا

*اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔

دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہی

اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں

ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں

*اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی*

ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائی

*اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.

ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے

اس کے برعکس

اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں ت

وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا

کیوں نہ گھر میں ایک ڈبہ رکھیں......

 بھیک کے لئے اسمیں سِکّے ڈالتے رہیں

مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں

*اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.

صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.

یاد رکھئے!

بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے

خیرات دیں،

منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،

اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی.

باقی مرضی آپ کی۔۔۔

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


Comments

Popular posts from this blog

آخرت کی تیاری

جمعہ مبارک کہنا بدعت ہے

Rights of Women in Islam