Rights of Parents in Islam

Image
  Rights of Parents in Islam To be obedient to mother and father and to expose kindness to them has been enjoined along side the Oneness and Worship of Allah Almighty, inside the Holy Quran, in this type of manner that it seems that among human deeds, to obey mother and father and deal with them with appreciate and kindness is subsequent most effective to Worship Almighty Allah. The repute of mother and father in Islam could be very high. We as a Muslim ought to provide respect and like to our mother and father. Parents have to be dealt with well always that is a virtuous kind of act in the sight of Almighty Allah. Parents and youngsters in Islam are bonded collectively by way of mutual duties. Allah Almighty says within the Holy Quran: “…No mother have to be harmed via her infant and no father via his infant…” (Quran 2: 233). From the above-cited verse of Holy Quran, we are able to finish that Quran has made it obligatory for the child to deal with his parents with all grace and m...

حکمت بھری نصیحت

 *🍂حکمت بھری نصیحت🍂*``


سلطان ملک شاہ ایک مرتبہ اصفہان میں جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کسی گاؤں میں قیام ہوا ،۔۔۔۔۔۔۔

وہاں ایک غریب بیوہ کی گائے تھی، جس کے دودھ سے تین بچوں کی پرورش ہوتی تھی، بادشاہی آدمیوں نے اس گائے کو ذبح کر کے خوب کباب بناۓ ،

غریب بڑھیا کو خبر ہوئی وہ بدحواس ہو گئی، بادشاہی آدمیوں کا مقابلہ کوئی داد و فریاد سننے کو تیار نہ تھا اس پر لاوارث اور ایک غریب عورت، ساری رات اس نے پریشانی میں کاٹی،۔۔۔۔۔۔

صبح ہوئی دل میں خیال آیا کہ کوئی نہیں سنتا تو نہ سہی، کیا بادشاہ بھی نہ سنے گا ؟

جس کو خدا نے غریبوں کو ظالموں سے نجات دینے کیلئے اتنی بڑی سلطنت دی ہے،

بادشاہ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، معلوم ہوا بادشاہ فلاں راستے سے شکار کو نکلے گا،۔۔۔۔۔۔۔

 چنانچہ اصفہان کی مشہور نہر کے پل پر جا کر کھڑی ہوگئی جب سلطان پل پر آیا ،تو بڑھیا نے ہمت اور جرأت سے کام لے کر کہا : 

اے اَلَپ ارسلان کے بیٹے! میرا انصاف اس شہر کے پل پر کرے گا یا پل صراط پر ؟ جو جگہ پسند ہو انتخاب کر لے،۔۔۔۔۔۔

 بادشاہ کے ہمراہی یہ بے باکی دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے، بادشاہ گھوڑے سے اتر پڑا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس عجیب و غریب اور حیرت انگیز سوال کا اس پر خاص اثر ہوا، اور بڑھیا سے کہا : "پل صراط کی طاقت نہیں ہے میں اس جگہ فیصلہ کرنا چاہتا ہوں،کہو کیا کہتی ہو؟ ۔۔۔۔۔۔

بڑھیا نے اپنا سارا قصہ بیان کیا، بادشاہ نے لشکریوں کی اس نالائق حرکت پر افسوس ظاہر کیا اور ایک گائے کے عوض میں اس کو ستر گائیں دلائیں اور مالا مال کر دیا،

 جب اس بڑھیا نے کہا تمہارے عدل و انصاف سے میں خوش ہوں اور میرا خدا اور رسول خوش ہے تو گھوڑے پر سوار ہوا۔۔۔۔۔۔۔

آہ! کیا زمانہ تھا ، کہنے والے کیسے آزاد خیال تھے اور سننے والے کیسے عالی حوصلہ! اگر موجودہ تہذیب وشائستگی کے زمانہ میں کوئی شخص اس طرح حاکم کی سواری روک لے اور اس سے ایسی آزادانہ گفتگو کرے تو شاید آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہو گا اس کے ساتھ



*کیا آج آپنے درودِ پاک پڑھا؟*

*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*

Comments

Popular posts from this blog

آخرت کی تیاری

جمعہ مبارک کہنا بدعت ہے

Rights of Women in Islam